Justuju Tv جستجو ٹی وی

Equipped with Google Analytics:


Showing posts with label Jasarat. Show all posts
Showing posts with label Jasarat. Show all posts

Monday, November 2, 2009

Restrictions in Sindh (Rent, Sale to Froeigners) غیرملکیوں کو کرایہ داری اور خریدوفروخت پر پابندی

صوبہ سندھ کی حکومت سے رہائشی و تجارتی اراضی کی خرید و فروخت اور ان کو کرائے پر دینے کی نگرانی کرنے کے لیے پراپرٹی ڈیلرز پر دفعہ 144 عائد کردی ہے‘ اس قانون کے تحت جائداد کی خرید و فروخت کے امور میں محکمہ داخلہ کی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ داخلہ کی اجازت کے بغیر یا متعلقہ تھانے کے علم میں لائے بغیر کوئی پلاٹ‘ رہاشی گھر‘ بنگلہ یا فلیٹ کسی غیرملکی شہریت کے حامل شخص کو کرائے‘ فروخت یا یا لیز کرکے نہیں دیں گے۔ یہ اقدام صوبہ سندھ میں حکومت نے بدامنی اور دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد جو نمائشی اقدام کیے ہیں ان ہی کا تسلسل ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بدامنی کے خاتمے میں سنجیدہ ہوجائیں تو یہ آسانی سے ختم ہوسکتی ہے۔ حکومت کے کریک ڈاﺅن کا شکار وہ غریب افراد بن رہے ہیں جو افغانستان‘ ایران‘ بنگلہ دیش اور برما جیسے غریب ملکوں سے روزگار اور مزدوری کی تلاش میں آتے ہیں۔ ان کے ریکارڈ کو ضرور ضبط کرنا چاہیے۔ لیکن اصل مسئلہ امریکی اور یورمملک سے آنے والے وہ افراد ہیں جو سی آئی اے اور دیگر غیرملکی ایجنسیوں کے خفیہ آلہ کار ہوتے ہیں۔ اس وقت بہت بڑی تعداد میں یورپ اور امریکا کے شہریوں نے مہنگے داموں کرائے پرمکانات لے رکھے ہیں لیکن ہماری حکومت ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی جرا¿ت نہیں کرسکتی۔ اسلام آباد میں جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑیوں اور غیرقانونی ممنوعہ اسلحہ اور گولے بارود کے ساتھ امریکی پکڑے گئے اور آئی جی اسلام آباد کی شہادت مطابق انہیں ایک فون پر صوابدیدی اختیارات استعمال کرکے چھوڑ دیا گیا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد اراضی کی خرید و فروخت اور کرائے کے کاروبارمیں بھی پولیس کی مداخلت بڑھ جائے گی اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Sunday, April 19, 2009

جائیداد منتقل کرنے کیلئے یوٹیلیٹی سروسز چارجز کی ادائیگی کی شرط










2009-04-19 00:00:00 PST
جائیداد منتقل کرنے کیلئے یوٹیلیٹی سروسز چارجز کی ادائیگی کی شرط

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی نے تمام جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کی اجازت کو یوٹیلیٹی سروسز چارجز کی ادائیگی سے مشروط کردیا ہے۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے اعلامیہ کے مطابق تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مفاد میں سٹی کونسل کراچی کے منظور کردہ یوٹیلیٹی سروسز چارجز کی وقت پر ادائیگی کریں جو یکم جنوری 2009ءسے نافذ العمل ہے۔ یوٹیلیٹی سروسز چارجز شہر کے انفرااسٹرکچر ، پارکوں، فلائی اوورز، انڈرپاسز اور دیگر انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال و مرمت کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس کی ادائیگی نہ کرنے والے صارفین کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہر قسم کی جائیدادکی خرید وفروخت اور منتقلی کو یوٹیلیٹی سروسز چارجز سے مشروط کرتے ہوئے پالیسی ترتیب دی گئی ہے کہ جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کے وقت دیگر یوٹیلیٹی سروسز چارجز کے بقایاجات کی مکمل ادائیگی کرنا ہوگی لہٰذا شہریوں سے کہا گیا ہے کہ بقایاجات کے بھاری بوجھ سے بچنے کے لیے یوٹیلیٹی سروسز چارجز وقت پر ادا کریں۔

Thursday, February 19, 2009

سرکاری مکانات کی منتقلی‘ اکاونٹس کمیٹی نے متحدہ کے وزیر کا اقدام ڈکیتی قرار دے دیا

سرکاری مکانات کی منتقلی‘ اکاونٹس کمیٹی نے متحدہ کے وزیر کا اقدام ڈکیتی قرار دے دیا

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں ) قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمےٹی نے سابق وفاقی وزیر ہا¶سنگ و تعمےرات سید صفوان اللہ کی جانب سے وفاقی کابےنہ سے منظوری کے بغےر کراچی مےں 3158 سرکاری فلےٹس کے قابضےن کو سرٹےفکےٹ جاری کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم معائنہ کمیشن سے واقعہ کی تحقیقات کے لیے سیکرٹری ہاﺅسنگ کو سمری ارسال کرنے اور اےک ماہ مےں تحقیقاتی رپورٹ پی اے سی مےں پےش کرنے کا حکم دےا ہے ۔ پی اے سی نے واضح کےاہے کہ تحقےقات کے سلسلے مےں کسی سےاسی اثرو رسوخ کو خاطر مےں نہ لاےا جائے ۔ چےئرمےن پی اے سی چوہدری نثار علی خان نے آبزروےشن دےتے ہوئے کہا کہ ملک کی قےمتی پراپرٹی پر دن رات ڈکےتی کی وارادتےں ہو رہی ہےں،کوئی پوچھنے والا نہےں ہے۔ پی اے سی نے سرکاری افسران کو ہداےت کی ہے کہ وہ وزراءکے غےر قانونی احکامات کو تسلےم نہ کرےں ۔پی اے سی نے وزارت ماحولےات کو ہداےت کی ہے کہ ملک مےں موبائل فون کمپنےوں کے ٹاورز کے انسانی صحت پر منفی اثرات کا نوٹس لےا جائے اور اس ضمن مےں سائنسی بنےادوں پر سروے مکمل کر کے رپورٹ پےش کی جائے۔ پی اے سی نے پاکستان ہا¶سنگ اتھارٹی مےں سنگل ٹےنڈر کی بنےاد پر فرگوسن کو کنٹسلنٹ مقرر کرنے کا نوٹس لےتے ہوئے وزارت کو 2ہفتوں مےں تحقےقات کرنے اور ذمہ داران سے تفتےش کی ہداےت کی ۔تفصیلات کے مطابق پی اے سی کا اجلاس بدھ کو کمےٹی کے چےئرمےن چوہدری نثار علی خان کی صدارت مےں پارلےمنٹ ہا¶س مےں ہوا۔ وزارت ماحولےات اور وزارت ہا¶سنگ و تعمےرات کے سالانہ حسابات کی جانچ پڑتال کی گئی ۔ چےئرمےن کمیٹی چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ عام تاثر ےہی ہے کہ ماحولےات اور اس کی وزارت پر توجہ نہےں دی جاتی، پالےسی پر عملدرآمد ضروری ہے، ماحولےات کے بارے مےں پالےسی کو موثر ہونا چاہےے، موجودہ پالےسی پر نظر ثانی کی جائے اور نئی پالےسی کے بارے مےں پی اے سی کو برےفنگ دی جائے ۔ ارکان نے تنقےد کی کہ شہروں مےں شوگر اور کےمےکل انڈسٹری کی وجہ سے انسانی صحت متاثرہو رہی ہے، اےنٹ بنانے والے بھٹے بھی شہروں کے قرےب آ گئے ہےں ،چےکنگ کا مو¿ثر نظام نہےں ہے ۔پی اے سی نے وزارت ماحولےات کے ماتحت ادارےPEPACکے مختلف سرکاری و نجی اداروں سے30.052 ملےن روپے کے واجبات کی رےکوری کا حکم دےا ہے۔ پی اے سی کے قواعد اور کام کے حوالے سے چےئرمےن پی اے سی چوہدری نثار علی خان نے واضح کےاکہ پبلک اکا¶نٹس کمےٹی کوئی سےاسی ادارہ نہےں ،تمام فےصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہےں ،قومی مفاد مےں کام کر رہے ہےں مےڈےا کا بھرپور تعاون حاصل ہے ، نظام مےں شفافےت چاہتے ہےں ۔ پی اے سی نے پی ایچ اے میں خلاف ضابطہ کنسلٹنٹ کی تقرری پر سیکرٹری ہاﺅسنگ و تعمیرات کو دو ہفتوں میں تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکے ۔ اجلاس کے دوران 2002ءسے دسمبر 2005 ءکے دوران کراچی اسٹیٹ آفس کی جانب سے 3456 سرکاری فلیٹس کے ریٹائرڈ ملازمین سے 26 کروڑ70 لاکھ روپے کے واجبات وصول نہ کرنے کے بارے میں آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا ۔ سابق سیکرٹری ہاﺅسنگ عبدالرﺅف چوہدری نے بتایا کہ خصوصی کمیٹی نے سیکٹر جی6 اور کراچی کے فلیٹس کو کچی آبادیاں ڈیکلیئر کرنے کی سفارش پر بھی غور کیا تھا، سروے کی بھی ہدایت کی گئی، اس سروے کی بنیاد پر کراچی کے علاقوں مارٹن روڈ، جہانگیر روڈ اور کلیٹن روڈ میںواقع7ہزار مکانات میں سے 3158کے رہائشیوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ، مگر اس کی تاحال کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی ہے،اس معاملے کی اصل فائل گم ہو چکی ہے ۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ فائل گم ہوئی یا فائل گم کر دی گئی تھی ،تمام احکامات کی ذمہ داری سرکاری افسران پر عائد ہوتی ہے، بے قاعدگی و بے ضابطگی کے حوالے سے متعلقہ افسر جواب دہ ہے،ا سٹیٹ کی قیمتی پراپرٹی کا مسئلہ ہے،دن رات ڈکیتی ہو رہی ہے،وزیر اعظم ‘ وزیر ‘ سیکرٹریز ملک کی حالت زار پر رحم کھائیں، پی اے سی نے اس پراپرٹی کو واپس حکومتی کنٹرول میں دینا چاہتی ہے، سیاسی بنیادوں پر دیے گئے مالکانہ حقوق کا نوٹس نہ لیا گیا تو یہ روایت بن جائے گی ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سرکاری پراپرٹی کسی کی سیاسی ملکیت تو نہیں ، کراچی کے مسئلے پر پردے ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر جی 6 کے مسئلے کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ سیکرٹری نے کہا کہ کراچی میں سرکاری فلیٹس کے قابضین کو مالکانہ حقوق نہیں دیے گئے تاہم ان کے حق کو ضرور تسلیم کیا گیا ہے، اس مرحلہ پر ان فلیٹس کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے ۔ وزارت قانون نے رائے دی کہ سرٹیفکیٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ پی اے سی نے اس معاملے کی ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی اور وزارت کو ہدایت کی دوبارہ قانونی رائے اور معاملے کو وفاقی کابینہ میں بھی پیش کیا جائے ۔ عبدالرﺅف چوہدری نے کہا کہ کراچی میں اسٹیٹ افسرکو سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جس پر ان معاملات کے حوالے سے تحقیقات کے لیے اعتماد کیا جا سکے ، ذمہ دارارن کی نشاندہی کی جائے ۔ پی اے سی نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے لیے وزیر اعظم معائنہ کمیشن سے رجوع کیا جائے ، اس ضمن میں وزیر اعظم سے رابطہ کیا جائے اور کسی سیاسی اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لایا جائے ۔

 

Sunday, January 4, 2009

Disputed Lands in Sindh


وزیراعلیٰ سندھ کے بیٹوں کے مابین زمین کا تنازع حل نہ ہوسکا

خیرپور(نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ کے بیٹوں میں زرعی زمین کی ملکیت کا تنازعہ مظفرعلی شاہ کے منشی کی جانب سے عدالت میں وزیراعلیٰ ہاﺅسکمپلینٹ سینٹر انچارج ‘ ایس پی او کوٹ ڈیجی اور ایس ایچ او کنب کے خلاف عدالت میں پٹیشن داخل‘ نوٹس جاری16 جنوری کو عدالت میں جواب داخل کرانے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے تین فرزندوں سید مظفرعلی شاہ‘ لیاقت علی شاہ اور اسدعلی شاہ کے مابین تعلقہ کوٹ ڈیجی کے دیہہ میرخان محمدکی زرعی اراضی کی ملکیت کا تنازعہ نہ ہوسکا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج خیرپورغلام قادرلغاری کی عدالت میں مظفرعلی شاہ کے منشی میرمحمد ولد عنایت اللہ پھلپھوٹو نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی میں قائم شکایات سینٹرکے انچارج امتیازولد فضل محمدملاح‘ ایس پی اوکوٹ ڈیجی آغاعیدن پٹھان اورکنب تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف پٹیشن داخل کراتے ہوئے تحریرکیاہے کہ امتیاز ملاح اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے زمین سے قبضہ ختم کرانے کے لیے پولیس کی مدد سے ہراساں کررہاہے اورجھوٹے مقدمات میں الجھانے کی دھمکیاں دے رہاہے۔ عدالت نے پٹیشن قابل سماعت قراردیتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو 19 جنوری 09 کو عدالت میں پیش ہوکر جواب داخل کرانے کاحکم دے دیاہے۔

 





When there are such events taking place in Pakistan, one can hardly find peace in land deals.

Sunday, December 7, 2008

Dubai: Property Market Metltdown دبئی ‘منافع کے لالچ میں پاکستانیوں کے اربوں روپے ڈوب گئے


2008-12-07 00:00:00 PSTدبئی ‘منافع کے لالچ میں پاکستانیوں کے اربوں روپے ڈوب گئے

اسلام آباد(ثناءنےوز )پاکستان اکانومی واچ نے کہا ہے کہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیںاوردلال روپوش ہو گئے ہیں۔دبئی میںدنیا کی چوٹی کی بڑی پراپرٹی فرموںکے شئیرز 85 فیصدتک گر گئے ہیں۔دنیا کے مہنگے ترین ہاﺅسنگ پراجیکٹس،ٹریڈ ٹاورز، ہوٹلوں اور شاپنگ سینٹروں سمیت سےکڑوںمنصوبوں پر کام رک گیا ہے۔ مالی بحران شدید ہو گیااورصرف پراپرٹی سیکٹرکے نقصانات دبئی کے جی ڈی پی کے برابر پہنچ گئے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے پاکستان اکانومی واچ کی تیار کردہ ’اوورسیز انوےسٹمنٹ رسک رپورٹ‘ کے مندرجات بتاتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی مرکزی حکومت اپنی ساکھ بچانے کے لےے اربوں ڈالر بیل آﺅٹ پر لگا رہی ہے۔ صرف بینکنگ سسٹم کو بچانے کے 29 ارب ڈالر لگائے جا رہے ہیں۔اس وقت امارات کے پاس 500 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہیں۔ عالمی بحران میں پہلے ہی ابو ظہبی انوسےٹمنٹ اتھارٹی کو 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ دبئی کی حکومت کو مجموعی طور پرکئی سو ارب ڈالر کے نقصانات اور ڈیفالٹ کے اندیشوں کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لےے اثاثے فروخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ پاکستانیوں کو سبز باغ دکھا کر انھیں لوٹنے والے مڈل مین، سٹہ باز ،ڈیلراور نام نہاد ڈویلپرغائب ہو گئے ہیں۔ حکومت ان کا محاسبہ کرے۔ رپورٹ کے مطابق تیل کی دولت پر انحصار کرنے والے ممالک قیمتوں میں 60فیصدتک کمی سے پہلے ہی پریشان ہیںاور اب پراپرٹی کی قیمت 50 سے اسی فیصد تک گر گئی ہے۔